اپنی زبان کا انتخاب کریں


Khaima Ijtima Khaima Ijtima Khaima Ijtima

پارٹنر بننے کیلئے یہا ں کلک کریں

دریائے یرون، جہاں یسوع نے بپتسمہ لیا


بپتسمہ سے مراد (ا) دھونا، (۲) دفن ہونا، (۳) ڈبونا، (۴) اور روحانی معنوں میں سو ختنی قربانی پر ہاتھ رکھ کر گناہوں کو منتقل کرنا ہے۔ جیسا کہ پرانے عہد نامے میں بیان کیا گیا ہے۔ نئے عہد نامے میں یسوع کا یوحنا سے بپتسمہ لینا سارے جہاں کے گناہوں نے یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ لیا جو کہ تمام نسل انسانی کی نمائندگی کررہا تھا اور ہارون کی نسل سے تھا۔ جسکے باعث دنیا بھر کے گناہ مسیح نے اپنے اوپر اٹھا لئے اور یہی بپتسمہ کا مقصد بھی ہے۔ بپتسمہ کے روحانی معنی منتقل کرنایا دفن کرنا کے ہیں اس طرح یسوع مسیح کے بپتسمہ سے مراد اُس پر گناہ کی منتقلی اور نسل انسانی کی نجات کیلئے عوض ہونا ہے۔ یسوع کو ہی اپنے بپتسمہ کے وسیلہ ہمارے گناہ اٹھاتے تھے اور ہماری خاطر صلیب پر قربان ہونا تھا۔ اور پھر دفن ہوکر جی اٹھنا تھا۔ اُس کا یہ کفارہ ہی گنہگاروں کی نجات اور اُس کا بپتسمہ نسل انسانی کے خطاﺅں کو دور کرنے کا شائد ہے۔
کتاب مقدس میں بیان کیا گیا ہے کہ بپتسمہ ہمیں بچاتا ہے (۱۔پطرس۳:۲۱)۔ یسوع مسیح کا بپتسمہ ہی بنی نوع انسان کیلئے راہ حق ہے۔ جس سے تمام گناہوں سے نجات حاصل کی جاتی ہے۔